خلاصہ:
فوزیہ ایک گائناکالوجسٹ تھی۔ اسپتال کی جاب اور پرائیوٹ پریکٹس میں مگن، اپنا آپ بھولے ہوئے تھی۔
حیدر ایک جنرل فزیشن تھا۔ ایک اچھے شریک سفر کی تشنہ خواہشات کے ساتھ جی رہا تھا۔
تیئیس سال کی عمر میں سویرا نے ایم ٹیک میں ایڈمیشن لیا تھا۔ ٹین ایج میں ہی باپ کا انتقال ہوا، پھر بیس سال کی عمر میں ماں کو بھی کھو دیا۔ اسے لگتا تھا کہ اس نے دنیا دیکھ لی ہے۔ اور ایک نئی جگہ پر نئی زندگی گزارنے کے لئے بالکل تیار ہے۔ فوراً فیصلہ لینے کی صلاحیت اور خودمختاری سے بھرپور، اسے کون سی چیز اسے اپنے خوابوں کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے سے روک سکتی تھی؟ وہ جانتی نہ تھی کہ اپنے بدترین دشمن کو وہ اپنے ساتھ لئے پھر رہی ہے۔
کیریئر کے لئے باقی سب نظر انداز کر دینے والی عورت کی کہانی۔۔۔ عورتوں پر اپنی مکمل اجارہ داری چاہنے والے مرد کی کہانی۔۔۔ خود کو عقلِ کل سمجھنے والی ایک کم عقل لڑکی کی نادانیوں کی کہانی۔
مصنفہ کا تعارف:
شبانہ مختار، ایک پرجوش لکھاری ہیں، جو فکشن لکھنا پسند کرتی ہیں۔
شبانہ ایک ایکٹیو بلاگر ہیں۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ، معاشرے کے مروجہ اصولوں پر تلخ اور حقیقت پسند انداز میں لکھتی رہتی ہیں۔ وہ کتابوں، ڈراموں، اور فلموں پر تبصرے بھی کرتی ہیں۔ اپنے بلاگ پر انہوں نے کافی فلیش فکشن لکھا ہے۔ ان کی پہلی کتاب "اف یہ لڑکی"کے ساتھ انہوں نے باقاعدہ فکشن لکھنے کا آغاز کیا ہے۔ "بچھڑنا نصیب تھا" ان کی اردو کی دوسری کہانی ہے۔ یہ دونوں کہانیاں بہت جلد ایک مجموعے کی شکل میں بھی منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔